AftabKhan-Net
A Project of 'Peace Forum Network': Knowledge, Humanity, Religion, Culture, Tolerance, Peace

Yemen یمن تجزیہ

 


یمن پر سعودی عرب اتحادیوں کی جنگی کاروائی پر دانشوروں کے تبصرے دلچسپ مگر
دانستہ یا نہ دانستہ لا علمی کا اظہا ر ہے . کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مقامی جگھڑا ہے سنی شیعہ مسلۂ نہیں . بہت سادگی ہے معصومیت یا جہالت یا مخصوص لابی کا اثر ہے . ضروری ہے کہ کھل کر حقیقت زمینی حقائق کے مطابق تبصرہ کیا جائے.١. 

١. ایران پر مذہبی کٹر شیعہ ملا ووں کی حکومت ہے .
٢. عراق -ایران ١٠ سال لڑتے رہے . 
٣. ایران نے ما لکی کی شیعہ فرقہ پرستی کی حمایت کی ، سنی آبادی کو سائیڈ لائن کر دیا .
٤. نتیجہ ایرانی حمایت یافتہ فرقہ پرست مالکی حکومت نے سنی آبادی کو دیوار بینڈ گالی میں ال قاعدہ ، داعیش کے حوالے کر دیا مگر ان کو عراقی حکومت میں مناسب نمائندگی نہ دی . پاکستان خاموش رہا .
٥. شام میں حافظ اسد ، بشارت اسد فیملی چالیس سال سے آمریت قائم ہے علوی شیعہ فرقہ ٩٠ فیصد سنی مسلمانوں پر جبر ظلم طاقت کے زور پر قائم ہے . اب جب اکثریت نے ظلم کے خلاف کھڑے ہوۓ تو ایران شیعہ ظالم امر کے ساتھ کھڑا ہے . ٥٠٠٠ سے زیادہ ایرانی لڑ رہے ہیں . سعودی عرب ، ترکی ، اور تمام عرب شامی اکثریت کے ساتھ ہیں. ایران کا کردار امت اسلامیہ کو تقسیم کر رہا ہے . 
٦. لبنان میں شیعہ ملشیا کی ایران مدد کر رہا ہے .. فرقہ پسندی .
٧. اب یمن میں ہوثی شیعہ زیدی اقلیت کی ایران مدد کر رہا ہےتاکہ وہ شام کی طرح شیعہ اقلیت سنی اکثریت پر حکومت کریں کیوں ؟ یمن افغانستان کی طرح ہے ، پاکستان انڈیا کا اثر افغانستان میں برداشت نہیں کرتا تو یمیں میں سعودی عرب کیوں کرے گا ؟
٨. ایران کے سنی مسلمانوں کو وہ برابر حقوق کیوں نہیں ہیں جیسے پاکستان میں شیعہ بھا یوں کو ہیں ، زرداری ، بے نظیر ، بھتو ، شیعہ کے با وجود حکومت سربراہ تھے ، کیا ایران میں سنی کے حقوق ہیں ؟
٩. علاقہ میں سعودی عرب داخل اندازی کرتا ہے عرب ملکوں کی اکثریت اس کے ساتھ ہے مگر ایران کی مداخلت کے سب مخالف ہیں ترکی بھی . 
١٠. ایران اکثریت کی مخالفت کے با وجود دوسرے ملکوں میں کیوں مداخلت کر رہا ہے جبکہ ایران پر کوئی حملہ نہیں کر رہا ؟ ایک سبق ایرانی وزیر نے کہ ایران صدیوں کے بعد پھر سپر پاور بن رہا ہے . کچھ ھوتھی حرمین شریفین مکّہ ، مدینہ پر شیعہ قبضہ کی بات کرتے ہیں ؟ سچ ہے یہ جھوٹ الله جانے .

سعودی حکومت کے نظریات اور سیاسی کردار پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر کیا  یہ عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے مفاد میں دو گا کہ سعودی عرب میں لیبیا ، شام یا عراق کی طرح انارکی ، تباہی پھیل جاے حرمین شریفین کو ، القاعدہ  دا عیش، ہوتھی فرقہ پرست جیسے  دشت گرد گروپوں لشکروں کے رحم و کرم چھوڑ دیا جائے؟ 

پاکستان کا فرض ہے ایران کو دوستانہ طور پر سمجھاے کہ وہ علاقہ کا ٹھیکیدار سامراجی پاور نہ بنے مسلمانوں کو تقسیم نہ کرے ، شیعہ اقلیت کو اکثریت کے خلاف نہ استمال کرے ان کا نقصان ہو گا .
١١. شیعہ سنی جھگڑے کا فائدہ اسرائیل اور امریکا کو ہو گا .
ہو سکتا ہے یہ باتیں کچھ دوستوں کو اچھی نہ لگیں مگر سچ کڑوا ہوتا ہے .

 

١٢. مسائل کو بات چیت کے ذریے حل کراینن پاکستان سالیث بنے . شیعہ سنی مسلمان بھا یوں کی طرح راہیں .

 

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

سعودی عرب سے پاکستانی ہمدردی کی تین واضح وجوہ ہیں۔

اولاً‘ سعودی عرب میں جس خلفشار کا اندیشہ ہے، وہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو یکسر تباہ کر سکتا ہے۔ باقی ماندہ
 قرار بھی ختم ہو جائے گا۔ 
(سعودی حکومت کے نظریات اور سیاسی کردار پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر کیا  یہ عالم اسلام اور مشرق وسطیٰ کے مفاد میں دو گا کہ سعودی عرب میں لیبیا ، شام یا عراق کی طرح انارکی ، تباہی پھیل جاے حرمین شریفین کو القاعدہ, دا عیش، ہوتھی فرقہ پرست جیسے  دشت گرد گروپوں ,  لشکروں کے رحم و کرم چھوڑ دیا جائے؟ ) یوں امریکہ اور اسرائیل اپنے وحشیانہ مقاصد پورے کر سکیں گے۔


ثانیاً‘ مقدس مقامات خطرے میں پڑے تو بحران پورے عالمِ اسلام کو محیط ہو جائے گا۔

ثالثاً‘ ہر مشکل وقت میں سعودی عرب پاکستان کی مدد کو پہنچا ہے۔ لاکھوں پاکستانی ہر سال تین ارب ڈالر سے زائد سعودی عرب سے پاکستان بھیجتے ہیں۔ اسی قدر دوسرے عرب ممالک سے۔ اقوام کی اوّلین ترجیح ان کے اپنے مفادات ہوا کرتے ہیں۔ 
(ہارون رشید )
 

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


سعودی عرب یمن کے ساتھ سنگین تنازعے میں ملوث ہوچکا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں نے یمنی حکومت کا تختہ الٹ کر نہ
صرف دارالحکومت اور اہم شہروں پر قبضہ کر لیا بلکہ انہوں نے یمن کے تین چار عشروں سے چلے آ رہے سوشل کنٹریکٹ کو بدلنے کی ایسی کوشش کی ہے، جس سے سعودی عرب اور بعض دیگر ہمسایہ ممالک کو شدید تحفظات پیدا ہوچکے ہیں۔

ہمارے خیال میںاس بار بھی پاکستان کو سعودی عرب کی سالمیت اور تحفظ کے لئے اپنی فوج ضرور بھیجنی چاہیے۔ اس کے سوا کوئی دوسری قابل عمل آپشن موجود نہیں۔ ایسا کرنے کا ٹھوس جواز اور منطقی دلائل موجود ہیں ۔

سب سے پہلی حقیقت پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ قریبی دوستانہ تعلقات ہیں۔ کوئی عقل کا اندھا یا ناسپاس شخص ہی یہ کہہ سکتا ہے کہ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت پر پاکستان کی مدد نہیں کی۔ سعودی عرب کا تعلق کسی ایک پاکستانی لیڈر یا حکمران سے نہیں رہا، بلکہ انہوں نے ریاست پاکستان کے ساتھ تعلق قائم کیا اور اسے نبھایا۔

لیبیا کے کرنل قذافی یا شام کے حافظ اسدکے برعکس سعودیوں نے پاکستانی ریاست کے مفادات کو مقدم سمجھا، کسی ایک لیڈر سے دوستی نہیں نبھائی۔پاکستان کی اب یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بھی اپنے دوستوں کا ساتھ نبھائے۔

قریبی دوستوں کے ساتھ تعلقات میں غیر جانبداری نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ آپ کو دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے یا پھر پیچھے ہٹ کر تعلقات کی وہ نوعیت ختم کرنی پڑتی ہے۔
ویسے بھی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت وغیرہ پر مشتمل عرب بلاک کے ساتھ پاکستان کے سٹریٹجک تعلقات اور مفادات کا تعلق ہے۔
ترکی بھی اعلانیہ اسی بلاک کے ساتھ ہوچکا ہے۔

دوسری طرف ایران، عراق، شام یا حزب اللہ وغیرہ پر مشتمل جو دوسرا بلاک تشکیل پا چکا ہے، اس کے ساتھ پاکستان کے اس طرح کے سٹریٹجک تعلقات، مفادات موجود ہیں نہ ہی اس بلاک کے ایجنڈے میں پاکستان کی کوئی جگہ بنتی ہے۔

تیسرا اور اہم ترین ایشو ان عرب ممالک میں موجوداوور سیز پاکستانی ہیں۔ تین ملین کے قریب پاکستانی وہاں موجود ہیں اور کئی ارب ڈالر کا زرمبادلہ ہر سال ہمیں بھیج رہے ہیں۔

کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئے ہم اپنے ان پاکستانی بھائیوں کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔ خدانخواستہ لاکھوں پاکستانیوں کو واپس آنا پڑا تو کیا ہوگا؟ کمزور حال پاکستانی معیشت کس طرح ان کا بوجھ سنبھالے گی۔ حکومت اور فیصلہ سازوں کو یہ پہلو لازمی سامنے رکھنا چاہیے۔

یہ بات البتہ واضح رہے کہ ہمیں اپنی فوجیں یمن پر حملے کے لئے قطعی طور پر نہیں بھیجنی چاہئیں۔ یمن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا ایشو ہے۔

ہمیں صرف سعودی عرب کی سالمیت کا تحفظ کر نا چاہیے۔ حرمین شریفین کی حفاظت ویسے بھی اسلامی دنیا کے ایک اہم طاقتور ملک ہونے کے ناتے پاکستان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

ہمارے ہاں بعض لوگ اسے مسلک کی لڑائی کہہ رہے ہیں۔ ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ سٹریٹجک مفادات میں مسلک صرف ضرورت کے طور پر لایا جاتا ہے، ورنہ فیصلے ان بنیادوں پر نہیں کئے جاتے۔

اخوان سنی ہیں، مگر سنی سعودی عرب، امارات اور کویت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ 
حماس سنی ہے، مگر شیعہ ایران جو ہر جگہ صرف شیعہ گروپوں کو سپورٹ کرتا ہے، اپنی ضرورت کے تحت اس نے حماس کو سپورٹ کیا۔
شام نے حافظ الاسد کے دور ہی سے اخوان المسلمون کے خلاف آپریشن کئے ، مگر حماس جو اخوان کی فکر سے متاثرہ اور اس کی حامی تنظیم ہے، اس کی شام نے حمایت کی اور خالد مشعل برسوں دمشق میں مقیم رہے۔

خود ساٹھ کے عشرے میں یمن کے زیدی اماموں کو سعودی عرب سپورٹ کرتا رہا ہے، جبکہ اس وقت مصر کے جمال ناصر ری پبلکن کے حامی تھے، کئی سال تک اس وقت یمن میں خانہ جنگی ہوئی۔

آج سعودی عرب اور مصردونوں شیعہ حوثیوں کے مقابلے میں یکجا ہیں۔

یمن کے تنازع کوصرف شیعہ سنی تقسیم کے پس منظر میں دیکھنا درست نہیں۔

ویسے بھی پاکستان غیر جانبدار رہ کر امن کے لئے کردار ادا نہیں کر سکتا۔ البتہ سعودی عرب فوجی دستے بھیج کروہ اس تنازع پر اثرانداز ہونے اوراسے امن کی طرف لے جانے کی قوت حاصل کر سکتا ہے۔

ہمیں یمن کے تنازع کو بڑھنے سے بچانا چاہیے، سعودیوں کی حمایت کرنا مگر ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ فیصلہ کرنا ہوگا، کوئی دوسری آپشن موجود نہیں۔
بشکریہ عامر خاکوانی- دنیا
—------—--------------------
یمن میں امن کیسے

میں زمینی راستے سے ایران جا پہنچا۔ وہاں میں نے تہران، اصفہان اور شیراز کی دیواروں پر ''مرگ برآل سعود‘‘ جگہ جگہ لکھا ہوا دیکھا۔ تہران میں ایک جگہ بورڈ پر لکھا ہوا دیکھا ''دشمنِ خمینی کافر است‘‘۔ اس کے بعد اب تک میں چاربار سعودی عرب جا چکا ہوں مگر سعودی عرب کی کسی دیوار پر میں ایران کے خلاف ایسے جملے ملاحظہ کرنے میں ناکام رہا ہوں۔
اسی وقت سے میرے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی تھی کہ اللہ نہ کرے دو ایسے ملکوں میں کشیدگی پیدا ہو کہ جن میں سنی اور شیعہ صدیوں سے اکٹھے رہتے چلے آ رہے ہیں۔ سعودی عرب کے مشرقی صوبوں نجران اور قطیف میں شیعہ کثیر تعداد میں ہیں تو ایران کے صوبوں بلوچستان، سیستان، اہواز اور خوزستان وغیرہ میں سنی اکثریت میں ہیں۔ پھر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا‘ ایرانی حجاج نے حج کے دوران مکہ مکرمہ میں (آیت اللہ) خمینی کے باتصویر پوسٹر اٹھا لئے اور نعرے لگانے شروع کر دیئے: ''اللہ اکبر‘ خمینی رہبر‘‘۔ اس پر سعودی پولیس نے روکنے کی کوشش کی تو ایرانی زائرین نے خنجروں سے حملہ کر دیا۔ جواب میں سعودی پولیس نے گولی چلا دی اور یوں امن والے شہر کی حرمت متاثر ہو کر رہ گئی۔ 

یہاں پر پاکستان کی ایک مثال بھی قابل غور ہے، محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم تھیں، ظفر ہلالی صاحب جو خارجہ امور کے معروف تجزیہ نگار ہیں‘ اس وقت محترمہ کے اسپیشل سیکرٹری تھے جبکہ اسلام آباد میں ایران کے سفیر محمد مہدی تھے جو 1993ء سے 1998ء تک یہاں تعینات رہے۔ محترمہ نے ظفر ہلالی سے کہا کہ ایرانی سفیر کو بلا کر کہو‘ تم جو اپنے سفارتخانہ کے ذریعہ لٹریچر تقسیم کر رہے ہو اس سے ہماری مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ظفر ہلالی صاحب بتلاتے ہیں کہ میں نے جب سفیر کو بلا کر محترمہ کی تشویش سے آگاہ کیا تو انہوں نے الٹا مجھ سے سوال کر دیا کہ آپ کا کیا اندازہ ہے کہ کتنی تعداد میں پاکستان کے لوگ ایران کے کہنے پر ہتھیار اٹھا سکتے ہیں؟ میں نے کہا‘ مجھے کیا معلوم۔ اس پرمحمد مہدی کہنے لگے، ہماری ہدایت پر 75ہزار پاکستانی ہتھیار اٹھا سکتے ہیں لیکن چونکہ ہم آپ کو اپنا برادر ملک خیال کرتے ہیں اس لئے آپ کے لئے مسائل پیدا نہیں کرتے۔
بہرحال اس قسم کی سوچوں اور طرز عمل کا نتیجہ مشرق وسطیٰ میں جنگ تک جا پہنچا۔ ایک جانب عراق کا صدام حسین تھا تو دوسری جانب ایران کے امام خمینی۔ عراق کے پیچھے پوری عرب دنیا تھی۔ وہ کہتے تھے‘ ایران اپنا مخصوص انقلاب برآمد کرنے کا نعرہ لگا رہا ہے۔ آخرکار یہ بے نتیجہ جنگ آٹھ سال کی بربادیوں کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔ صدام حسین سنی تھا مگر وہ سیکولر بھی تھا۔ اس نے جہاں شیعہ پر ظلم کیا، سنیوں پر بھی ظلم کیا تھا۔ کرد سنیوں کو بھی زہریلی گیسوں سے مارا تھا اور پھر اس نے کویت پر چڑھائی کی تو تب بھی سنی شیعہ کا کوئی لحاظ نہ کیا۔ اس کے بعد جب امریکہ نے کویت چھیننے کے چند سال بعد دوبارہ عراق پرحملہ کیا تو وہاں سنی شیعہ کے اختلاف کو فرقہ وارانہ قتل عام میں تبدیل کر دیا اور جاتے جاتے عراق کی حکومت نوری المالکی کے سپرد کر دی جس نے فرقہ واریت کے تحت ظلم شروع کر دیا۔ ردعمل میں داعش وجود میں آ گئی جس نے اپنے سلوگن (نعرے) میں فرقہ واریت کو نمایاں کیا۔ یوں عراق فرقہ وارانہ دشمنی کی آگ کے الائو میں جلنے لگا اور تاحال جل رہا ہے۔
اب شام کا محاذ امریکیوں نے کھول دیا ہے‘ وہاں کے علوی شیعہ‘ سنیوں کے مقابلے میں 15سے 20فیصد ہیں۔ ایران کے بارہ امامی شیعوں کا ان سے شدید مسلکی اختلاف ہے مگر ایران نے شامی صدر کی عملی حمایت شروع کر دی۔ لبنان کچھ عرصہ پہلے شیعہ سنی اور مسیحی اختلافات کی آگ میں جلتا رہا ہے۔ وہاں کی عسکری تنظیم حزب اللہ نے بھی بشارالاسد کی حمایت میں اپنے رضاکار بھیج دیئے۔ دوسری جانب النصرہ فرنٹ کو سعودی عرب کی حمایت حاصل تھی، یوں شام میں بھی شیعہ سنی کے نام پر خون بہنے لگا اور تاحال بہہ رہا ہے۔
اب یمن میں بھی آگ پہنچ چکی ہے۔ وہاں سنی شیعہ صدیوں سے آرام و سکون سے رہتے چلے آ رہے تھے‘ مگر امریکہ نے آگ یہاں بھی بھڑکا دی۔ حوثی باغی جو داعش جیسے دہشت گرد ہیں‘ ان کو امریکہ اور ایران کی مدد حاصل ہے۔ آج کل ایران اور امریکہ باہم قریب ہیں۔ امریکہ کسی کے بھی قریب ہو یا تعلقات میں بعید ہو، فرق نہیں پڑتا‘ اس نے کام اپنا کرنا ہے اور وہ ہے مسلمان ملکوں میں فساد اور خونریزی کروانا؛ چنانچہ اب یہ خونریزی یمن میں بھی شروع ہو چکی ہے۔ یمن میں اس آگ کے پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کی سرحد جو اٹھارہ سو 
کلومیٹر یمن کے ساتھ لگتی ہے‘ وہاں سے متواتر دراندازی ہوتی رہے گی اور سعودی عرب کو ہر جانب سے گھیر کر بے بس کیا جائے گا۔ یہ ہے وہ صورت حال جو سعودی عرب کی جگہ کسی بھی ملک کی ہو تو اس کے لئے ناقابل برداشت ہو گی؛ چنانچہ سعودی عرب نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ میدان جنگ بپا کر دیا ہے‘ اس لئے کہ اس نے سوچا کہ اگر اپنے گھر کے گھیرے کو روایتی انداز سے دور ہٹانے کی کوشش کی جائے گی تو فائدہ نہ ہو گا بلکہ سابقہ تجربات کی روشنی میں نقصان ہی نقصان ہو گا۔
خلیج کی ریاستیں سعودی عرب کی فطری حلیف ہیں اس لئے کہ وہ جزیرۃ العرب کی ریاستیں ہیں۔ یاد رہے‘ متحدہ عرب امارات سالہا سال سے اپنے تین جزائر کی واپسی کی کوششیں کر رہا ہے، یہ تین جزائر طنب صغیر، طنب کبیر اور جزائر ابوموسیٰ ہیں۔ خلیج فارس میں واقع یہ جزائر سمندر کے بین الاقوامی قانون کے مطابق ایران کی نسبت امارات کے قریب ہیں۔ امارات کے حکمرانوں کا کہنا ہے کہ ان کے جزائر پر ایران نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہاں فوجی اڈے بنا لئے ہیں۔ یہاں سے امارات پر کارروائی کرنا انتہائی آسان ہے۔ یوں خلیجی ریاستیں اپنی بقا کے لئے یمن کی جنگ میں سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔
موجودہ صورت حال میں ایران کے حکمران انتہائی خوش ہیں، اس خوشی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی کے مشیر علی یونسی نے ببانگ دہل اعلان کیا کہ ایران ایک عظیم سلطنت بن چکا ہے‘ اب دارالحکومت بغداد ہو گا۔ ایران کی ایک غیر سرکاری ایجنسی ''ایسنا‘‘ کے مطابق علی یونسی ایران کے سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں انٹیلی جنس کے وزیر بھی رہے ہیں۔ انہوں نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ''سارا مشرق وسطیٰ ہمارا ہے‘‘۔ اسی طرح ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی شیخانی نے واضح طور پر کہا کہ ہم یمن کے باب المندب اور بحیرہ روم کے دہانے پر کھڑے ہیں‘ یعنی ایک جانب شام کے ساحل پر ہیں تو دوسری طرف یمن کے بین الاقوامی سمندری راستے پر بیٹھے ہیں، یوں دنیا ہماری محتاج ہے۔ 
حقیقت یہ ہے کہ اگر کردار اور سوچ ایسی ہی ہے تو مشرق وسطیٰ میں امن کیسے حاصل ہو گا؟ ایران کے ایک اور سابق صدر جناب علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے کہا ہے کہ داعش نے جس قدر نقصان پہنچایا‘ ہمارے ہاں کے وہ لوگ جو اپنا انقلاب برآمد کرتے پھر رہے ہیں‘ وہ داعش کے لوگوں سے کم نقصان نہیں پہنچا رہے۔ دوسرے لفظوں میں ہاشمی رفسنجانی نے واضح کر دیا ہے کہ سوچوں کو بدلنا ہو گا۔ ہم سمجھتے ہیں‘ ایسے لوگوں کو ہر جانب سے آگے بڑھنا چاہئے۔ امن کا آغاز یمن سے کرنا چاہئے اور بتدریج اسے پورے مشرق وسطیٰ تک پھیلانا چاہئے۔ پاکستان ایٹمی، میزائل ٹیکنالوجی اور فوج کے لحاظ سے عالم اسلام کا نمبر ایک ملک ہے۔ عالم اسلام کی مشترکہ فوج بنا کر اسے سربراہی دی جائے۔ عرب ملکوں نے اپنی مشترکہ فوج بنانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ بھی خوش آئند ہے مگر اس کے دائرے کو پھیلا کر عالم اسلام کی فوج بن جائے اور اسے یمن میں اتارا جائے‘ وہ وہاں امن قائم کرے اور پرامن طریقے سے اقتدار وہاں کے عوامی نمائندوں کو منتقل کر دے۔ یہ وہ مبارک عمل ہے کہ اس سے مسلمان ملکوں میں جاری خانہ جنگی ختم ہو جائے گی اور بیرونی مداخلت بھی دم توڑ جائے گی۔ عالم اسلام اک نئے انداز سے دنیا میں نمایاں ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں‘ اگر موجودہ شر سے خیر کا مذکورہ دروازہ کھل جائے تو سنی اور شیعہ سب خوش قسمت ہوں گے۔
(امیر حمزہ، دنیا)
- See more at: http://dunya.com.pk/index.php/author/ameer-hamza/2015-04-02/10759/98848670#tab2